20 ستمبر 2011 - 19:30

مستونگ کے نزدیک لک پاس میں دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں 26 زائرین کی شہادت پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اکابرین سمیت ملک کی اہم مذہبی و سیاسی شخصیات نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ،

ابنا: ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی نے نجی ٹی وی چینل سماء پر اس المناک سانحہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک سانحہ حکومت بلوچستان اور ایجنسیوں کی نا اہلی کے سبب رونما ہوا انہیں مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایجنسیوں کو دہشت گردوں کے روٹس معلوم نہ ہوں ۔ کوئٹہ کراچی کی طرح کوئی بڑا شہر نہیں ، ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جہاں ایجنسیوں کو پوری طرح علم ہے کہ دہشت گردوں کے کہاں لنکس ہیں اور ان کے روٹس کیا ہیں ۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ سیاسی مفادات رکاوٹ بن جاتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہرذ ی ہوش شہری خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ آج تک کتنے دہشت پکڑے گئے اور ان میں سے کتنوں کو سزا ہوئی، دہشت گردوں کے پکڑے جانے کی خبر تو آتی ہے لیکن ان کی سزا کی خبر آج تک نہیں آئی ، تمام پکڑے جانے والے دہشت گردوں کو رہا کر دیا جاتا ہے.

انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف ایک ووٹ کی خاطر 58 دہشت گردوں کو بلوچستان کی جیلوں سے رہا کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وطن یہ سرزمین ہماری ہے ، کوئی قوم کوئی قبیلہ ایسا نہیں جو دہشت گردی کے خوف سے دبک کر گھر بیٹھ جائے اور کام کاج چھوڑ دے ، خدا نہ کرے کہ دہشت گردی کے متاثرہ افراد بھی رد عمل پر اتر آئیں جیسا کہ بلوچستان میں بلوچوں کی جانب سے رد عمل آ رہا ہے.

علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ یہ ملک ایسے نہیں چل سکتا جیسے ہمارے حکمران چلانا چاہتے ہیں، جب تک قاتلوں کو سزائیں نہیں ملیں گی، انہیں پکڑ کر پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سزائیں نہ ملنے اور عدالتوں سے بری ہو جانے کے سببب دہشت گردوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور وہ پہلے سے زیادہ تخریب کاری پر اتر آتے ہیں.

ایم ڈبلیو ایم کے راہنما علامہ عابد حسین بہشتی نے سماء ٹی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، لیکن یہ قطعی طور پرپہلا اور آخری واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی عید الفطر کے روز نمازیوں پر حملہ کیا گیا اور وہاں شہادتیں ہوئیں، کوئٹہ اور بلوچستان کی تاریخ میں ایسے واقعات کی طویل فہرست نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر پرامن افراد سوگ ہی منا سکتے ہیں یا پر امن احتجاج کر سکتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردوں کو لگام ڈالے اور انہیں کنٹرول کرے، انہیں پکڑے، مارے اور بیرون ملک سے آنے والے دہشت گرد جہاں بھی ہوں انہیں بھگا دے۔

علامہ عابد بہشتی نے کہا کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، بم دھماکے ہو رہے ہیں اور زائرین کی بسوں پر حملے ہو رہے ہیں لیکن بلوچستان کی حکومت صرف لاشیں اٹھوانے،.طفل تسلیاں دینے، مجرموں کو پکڑنے اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے جیسے دعووں کے سوا کچھ نہیں کرتی اور اگر دہشت گردی کے متاثرین پر امن احتجاج کرتے ہیں تو اس میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، جیسا کہ یوم القدس کے بڑے سانحہ کے وقت ہوا بلوچستان حکومت نے اس میں زخمی ہونے والے افراد کو گرفتار کیا ہوا ہے اور انہیں ریلی کے روٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں جیل مین ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے حالات ہوں اور واضح طور پر نسل کشی نظر آ رہی ہوتو حکومت کے لیے اپنی ذمہ داریا ں پوری کرنا ضروری ہو جاتا ہے.

علامہ عابد بہشتی نے کہا کہ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ وہاں مختلف قسم کے ایلیمنٹس ہیں جو مختلف نوعیت کی دہشت گردی کر رہے ہیں انہوں نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو انتباہ کیا کہ اس قسم کے واقعات سے ملک میں بد امنی پھیل جائے گی، مایوسی پھیل جائے گی اور جس طرح ہمارے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی نے اشارہ کیا کہ جب آدمی مایوس ہو جاتا ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے لہٰذا بلوچستان کی حکومت اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ ا س سچوایشن پرخصوصی توجہ دے.

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور انشاء اللہ ملک بھر میں سوگ منایا جائے گا ہم مہذب لوگ ہیں قانوں کو ہاتھ میں نہیں لیں گے، یہ حکومتوں اور اداروں کا کام ہے کہ ایکشن لے۔

ممتاز عالم دین اور رویت ہلا ل کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحماں نے سماء چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور بد قسمتی سے حکومت دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو ئی، اس لیے آئے روز دہشت گردی ہو رہی ہے، بم بلاسٹ ہوتے ہیں خود کش حملے ہوتے ہیں اور بے قصور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں یہ انسانیت کے خلاف ہے، مذہب کے خلاف ہے اور کوئی بھی صحیح العقیدہ مسلمان اتنے بڑے جرم کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی مستونگ زائرین کی بس پر مسلح دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کے واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق و زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روز نامہ جنگ کے مطابق الطاف حسین نے اس واقعہ کو ملک دشمن عناصر کی گھنائونی سازش قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بے گناہ افرادکا ناحق خون بہا کر ان واقعات کے ذریعے ملک کو عد م استحکام سے دو چار کر نا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد عناصر اس واقعہ میں ملوث ہیں وہ انسانیت کے کھلے دشمن ہیں انکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے واقعہ میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کاا ظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعا بھی کی ۔ الطاف حسین نے صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی ،سے مطالبہ کیاکہ وہ مستونگ زائرین کی بس پر فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیں اور اس میں ملوث دہشت گرد عناصر کو عبرتناک سزاد ی جائے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے مستونگ میں زائرین کی بس پر وحشیانہ فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کو ملک دشمن عناصر اور ان کے ایجنٹوں کی کارستانی قرار دیا ہے۔ جو پاک ایران تعلقات کو خراب کرنا اور ملک میں شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑکانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

سید منور حسن نے کہا کہ امریکہ بار بار ایران پاک گیس لائن منصوبے کو ختم کرنے کے لیے دبا ڈال رہا ہے اور وہ کسی صورت بھی پاکستان کو استحکام، خوشحالی اور خود انحصاری کی طرف بڑھتے نہیں دیکھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معصوم لوگوں کی جان سے کھیلنا انتہائی درندگی اور بربریت ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے زائرین کی بس پر فائرنگ کو اسلام دشمنوں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے حکومت اور قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ملک اسحاق کو جیل سے رہا کروانے پر اسے جو پروٹوکول دیا گیا، اس کے بعد ایسے واقعات کی توقع تھی اور اب وہ حکومتی سرپرستی میں پنجاب کے دورے کر کے فرقہ وارانہ منافرت اور دہشت گردی پھیلانا چاہتا ہے۔......

/169